بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

معاویہ رحمن نام رکھنا

سوال

’’معاویہ رحمن‘‘  نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

جب کوئی نام کسی صحابیؓ سے منسوب ہو اور رسول اللہ ﷺ نے وہ نام تبدیل نہ کیا ہو تو اس کے معنیٰ کی طرف توجّہ دینے کی ضرورت نہیں، کیوں کہ کسی نام کے باسعادت اور بابرکت ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ کسی صحابیؓ کا نام ہے۔ "معاویہ" ایک جلیل القدرصحابی  کا اسم گرامی ہے، یہ  کاتبانِ وحی میں سے تھے،  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں کئی صحابہ کرام کے ناموں کو تبدیل فرمایا ہے، وہیں بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ناموں کے لفظی معنیٰ سے صرفِ نظر فرماتے ہوئے انہیں تبدیل نہیں فرمایا جو ان ناموں کے درست ہونے اور ان کے استعمال کےلیے شرعی دلیل ہے، لہذامعاویہ نام رکھنا درست اور باعث برکت ہے، خصوصاً ایسی جگہ جہاں اس نام کو لوگ پسند نہ کریں تو ، ناحق حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے بغض  رکھنے والوں کی تردید اوران سے براء ت کے  لیے اس نام میں ثواب  کی بھی  امید ہے۔

اگر والد کا نام عبدالرحمن ہے تو  معاویہ رحمن کے بجائے معاویہ عبدالرحمن نام رکھا جائے۔ اور اگر یہ والد کا نام نہیں بلکہ "رحمن " یہ معاویہ نام کا حصہ ہے تو معاویہ رحمن کا معنی ہوگا"رحمن کا معاویہ"جیسے عبدالرحمن کا معنی ہے رحمن کا بندہ ، اس لیے معاویہ رحمن نام رکھنا درست ہوگا۔فقط واللہ ا علم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201617
تاریخ08-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں