سوتیلے بیٹے کی بیوی کو شہوت سے چھونے کا حکم
سوال
سوتیلے بیٹے کی بیوی کو شہوت سے مس کرنے کی صورت میں کیا حرمت ثابت ہوگی؟
جواب
واضح رہے کہ کسی شخص کی بیوی کی جو کسی دوسرے شوہر سے اولاد ہوتی ہے اسے ہمارے عرف میں اس شخص کی سوتیلی اولاد کہا جاتا ہے، لہٰذا سوتیلے بیٹے سے مراد بیوی کا بیٹا ہے جو کہ حقیقت میں اپنا بیٹا نہیں ہوتا، اس لیے سوتیلے بیٹے کی بیوی کو شہوت سے چھونے سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوتی ہے یعنی سوتیلے بیٹے کی بیوی کو چھونے سے سوتیلے بیٹے پر اس کی بیوی حرام نہیں ہوئی، البتہ حرمتِ مصاہرت اس معنی پر ثابت ہوجائے گی کہ چھونے والے شخص پر سوتیلے بیٹے کی بیوی کے اصول و فروع حرام ہوجائیں گے، اسی طرح جس عورت کو چھوا گیا ہے اس پر اپنے شوہر کے سوتیلے والد کے حقیقی اصول و فروع حرام ہوگئے ہیں، لیکن بہرحال سوتیلے بیٹا ہو یا سگا بیٹا ہو اس کی بیوی کو شہوت سے چھونا بالکل ناجائز اور حرام کام ہے، اس پر توبہ و استغفار کرنا لازم ہے۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

