بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح کے لیے چندہ

سوال

تراویح کے لیے چندہ کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

تراویح  کے لیے چندہ سے مراد اگر یہ ہے کہ حافظ قرآن کے لیے اجرت کا انتظام کیاجائے تو اس کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر کوئی حافظ بغیر معاوضے کے سنانے والا نہ ملے تو مختصر سورتوں کے ساتھ تراویح پڑھ لینی چاہیے۔

البتہ اگر حافظِ قرآن کی طرف سے قرآنِ مجید سنانے یا سننے پر اجرت یا ہدیہ کا مطالبہ نہ ہو، اور اس جگہ اس کے التزام کا عرف بھی نہ ہو، اور بغیر جبر و دباؤ کے کچھ لوگ از خود اپنی خوشی و رضامندی سے پیسے جمع کرکے حفاظ کی خدمت کردیں تو یہ اجرت میں داخل نہیں ہوگا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201592
تاریخ08-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں