روزے کی حالت میں ناک میں پانی چلا گیا
سوال
روزہ کی حالت میں نہاتے ہوئے غیراختیاری طور پر پانی ناک کےاندر گیا، مگر حلق تک نہیں پہنچا تو روزے کا کیا حکم ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں اگر پانی حلق میں نہ گیا ہو تو ایسی صورت میں روزہ فاسد نہ ہوگا، البتہ روزے کی حالت میں ناک میں پانی چڑھانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وَإِنْ تَمَضْمَضَ أَوْ اسْتَنْشَقَ فَدَخَلَ الْمَاءُ جَوْفَهُ إنْ كَانَ ذَاكِرًا لِصَوْمِهِ فَسَدَ صَوْمُهُ وَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ ذَاكِرًا لَايَفْسُدُ صَوْمُهُ، كَذَا فِي الْخُلَاصَةِ، وَعَلَيْهِ الِاعْتِمَادُ". ( كتاب الصوم، الْبَابُ الرَّابِعُ فِيمَا يُفْسِدُ، وَمَا لَا يُفْسِدُ، النَّوْعُ الْأَوَّلُ مَا يُوجِبُ الْقَضَاءَ دُونَ الْكَفَّارَةِ، ١ / ٢٠٢، ط: دار الفكر) فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

