بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غلطی سے سحری کا وقت ختم ہوجانے کے دس منٹ بعد روزہ بند کرنا

سوال

ہمیں روزے میں وقت کا اندازا  نہیں تھا، ہم نے 4:40 پر روزہ بند کیا، جب کہ بعد میں معلوم ہوا کہ روزہ تو  4:29 پر بند ہونا تھا تو اب ہمارا روزہ ہوجائے گا؟

جواب

اگر سحری کا آخری وقت 4:29  تک تھا اور آپ لوگوں نے غلطی سے  4:40 پر  کھانا پینا بند کیا تو اس دن کا روزہ ادا نہیں ہوگا، بعد میں اس روزے کی قضا کرنی ہوگی، البتہ کفارہ لازم نہیں ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 405):
"أو تسحر أو أفطر يظن اليوم) أي الوقت الذي أكل فيه (ليلاً و) الحال أن (الفجر طالع والشمس لم تغرب) لف ونشر ويكفي الشك في الأول دون الثاني عملاً بالأصل فيهما ولو لم يتبين الحال لم يقض في ظاهر الرواية، والمسألة تتفرع إلى ستة وثلاثين، محلها المطولات (قضى) في الصور كلها (فقط).

الفتاوى الهندية (1/ 194):
"تسحرّ على ظن أن الفجر لم يطلع، وهو طالع أو أفطر على ظنّ أنّ الشمس قد غربت، ولم تغرب قضاه، ولا كفارة عليه؛ لأنه ما تعمد الإفطار، كذا في محيط السرخسي.. فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201546
تاریخ08-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں