بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مروجہ اسلامی بینکوں میں رائج اجارہ کا حکم

سوال

ہمارے کچھ علماء اجارہ کے اصول کی روشنی میں اسلامی بینک سے گاڑی یا گھر لینے کو جائز سمجھتے ہیں، جس میں دو چیزوں کے حرام ہونے کا شبہ ہوتا ہے:

قسط دیر سے ادا کرنے پر جرمانہ اور انشورنس ۔ جب کہ ہمارے اکابر علماء ادائیگی قسط میں تاخیر پر جرمانےکے لیے  امام مالک رحمہ اللہ کے قول پرفتوی دیتے ہیں اور انشورنس کو تکافل کی صورت میں لیتے ہیں ۔

ان تمام باتوں کی روشنی اسلامی بینک سے گاڑی یا گھر لینے میں شرعاً کوئی قباحت تو نہیں؟ بلا جھجھک گھر یا گاڑی بینک سے لے سکتے ہیں؟ 

جواب

ملک کے جمہور اہلِ علم کے نزدیک مروجہ اسلامی بینکوں میں  رائج اجارہ ودیگر معاملات جائز نہیں، لہذا مروجہ  اجارہ کی بنیاد پر کار یا گھر لینا جائز نہیں۔

تفصیل کے لیے دیکھیے: مروجہ اسلامی بینکاری از رفقائے دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن ، مطبوعہ مکتبہ بینات۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144109201536
تاریخ08-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں