بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تنخواہ کے بقایا جات (arrears) وصول ہونے کی صورت میں زکوٰۃ کا حکم

سوال

مجھے  اپنے  ادارے  کی  طرف سے   4   لاکھ روپے ایریرز،   تنخواہ  کے ڈیفرینس  کی  مد  میں   مارچ   2020  میں  ملے  کیا اس رقم پہ   زکوٰۃ   واجب ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں   آپ کو  اپنے ادارے کی طرف سے ایریرز  (arrears۔بقایاجات) ، تنخواہ   کے ڈیفرینس  کی مد  میں جو چار لاکھ روپے ملے ہیں اس کی گزشتہ سالوں کی زکاۃ  ادا کرنا آپ پر لازم نہیں ہے، اس لیے کہ تنخواہ کی رقم جب تک  وصول نہ ہوجائے وہ ملازم کی ملکیت میں نہیں آتی، بلکہ ادارے کے  ذمے  واجب الادا ہوتی ہے  اور  یہ دینِ ضعیف ہے، اس کے وصول ہونے کے بعد اس رقم کی گزشتہ سالوں کی زکاۃ  ادا کرنا لازم نہیں ہوتا۔

اور  رقم  وصول  ہونے  کے بعد  یہ تفصیل ہے کہ  اگر آپ  پہلے سے  صاحبِ  نصاب ہیں تو  آپ کے نصاب کا سال جب مکمل ہو تو اس وقت آپ کی ملکیت میں موجود دیگر رقم کے ساتھ اگر یہ رقم بھی موجود ہو تو  اس رقم سے بھی زکاۃ  نکالنا لازم ہوگا، چاہے رقم وصول ہونے کے  بعد سال مکمل  نہ  بھی  ہوا ہو، اور اگر  پہلے سے صاحبِ نصاب نہیں ہیں بلکہ اس رقم کے وصول کرنے سے صاحبِ نصاب بنے ہیں تو اس دن سے لے کر قمری حساب سے سال مکمل ہونے والے دن اگر آپ کے پاس نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) کے برابر یا اس سے زائد نقد رقم یا زیورات یا مالِ تجارت موجود ہو تو  کل مالیت کا ڈھائی فیصد بطورِ زکاۃ  ادا کرنا لازم ہوگا۔

         فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وأما سائر الديون المقر بها فهي على ثلاث مراتب عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى -: ضعيف، وهو كل دين ملكه بغير فعله لا بدلاً عن شيء نحو الميراث أو بفعله لا بدلاً عن شيء كالوصية أو بفعله بدلاً عما ليس بمال كالمهر وبدل الخلع والصلح عن دم العمد والدية وبدل الكتابة لا زكاة فيه عنده حتى يقبض نصاباً و يحول عليه الحول".

(1/ 175،کتاب الزکوۃ، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ط: رشیدیه)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201498
تاریخ07-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں