بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فون پر بات كرتے وقت درود شريف پڑھنے پر اصرار كرنا

سوال

ہمارے ہاں ایک حضرت اپنے احباب کو موبائل فون پر بات کرتے وقت ایک خاص درود شریف  پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں، اور اس پر اصرار کرتے ہیں،  کیا ایسا کرنا درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ درود شریف  کا پڑھنا بلا شبہ نہایت سعادت مندی اور بابرکت عمل ہے،اس کی کثرت، برکت و  رحمت اور خیر کثیر کا ذریعہ اور سبب ہے،مگر یہ نفل عمل ہے اور نفل کام کی ترغیب دینا تو ٹھیک ہے،  لیکن اس  کے  پڑھنے  پر اصرار کرنا  مناسب نہیں ، علماء نے نفل کام پر اصرار کرنے کو بھی بدعت میں شمار کیا ہے ؛ اس  لیے بصورتِ مسئولہ مذکورہ  صاحب کا  فون پر بات کرتے ہوئے مخصوص درود شریف پڑھنے پر اصرار کرنادرست نہیں ۔

"الإصرار علی المندوب یبلغه إلی حد الکراهة."

(سعایة ۲؍۲۶۵، الدر المختار، باب سجدۃ الشکر / قبیل باب صلاۃ المسافر ۲؍۱۲۰ کراچی، ۲؍۵۹۸ زکریا)

"قال الطیبي: وفیه من أصر علی أمر مندوب وجعلة عزمًا، ولم یعمل بالرخصة فقد أصاب من الشیطان من الإضلال، فکیف من أصر علی أمر بدعة أو منکر."

(مرقاۃ المفاتیح ۲؍۱۴، فتح الباري ۲؍۳۳۸)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201490
تاریخ07-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں