بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کی رقم ادائیگی سے قبل چھین لی گئی

سوال

میں نے زکاۃ کی نیت سے کچھ رقم بینک سے نکلوائی، پھر  زکاۃ ادا کرتے جاتے وقت وہ رقم اور موبائل گن پوائنٹ پر چھن گئی،  سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورت میں زکاۃ ادا ہوگئی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں زکاۃ ادا نہیں ہوئی، بدستور واجب الادا ہے۔ جب کسی فقیر، مسکین یا اس کے وکیل کو زکاۃ کی رقم حوالہ کردی جائے تب زکاۃ ادا ہوتی ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201447
تاریخ07-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں