بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زیر ناف بال کی صفائی میں کچھ بال رہ جائیں تو کیا حکم ہے؟

سوال

 اگر ہم زیر ناف بال صاف کر رہے ہیں اور صاف بھی کرلیے، لیکن کچھ جگہوں پر بال رہ گئے ہیں، ان کا بعد میں پتا چلا ہے کہ وہاں بال رہ گئے ہیں اور ان سے نماز بھی پڑھ لیں تو پھر ان کا کیا حکم ہے نماز کا؟ کیا ان بالوں کودوبارہ صاف کرنا پڑتاہے؟

جواب

 زیرِ ناف بالوں  کی صفائی بھی امورِفطرت میں سے ہے  اور مستحب یہ ہے کہ ہر ہفتے میں جمعہ کے دن  جسمانی اصلاح و صفائی کا یہ کام کیا جائے، ورنہ دو ہفتوں میں ایک بار کرلینا چاہیے اور آخری حد 40 دن تک  کی ہے، چالیس دن سے زیادہ تاخیر کرنا مکروہِ تحریمی اور گناہ کا باعث ہے۔

زیر ناف کاٹنے کے دوران اگر کچھ بال رہ جائیں اور نماز ادا کرلی جائے تو نماز ادا ہوجائے گی، اس کو لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے،  اور اگر وہ بال چالیس دن سے زیادہ کے نہ ہوں تو  جو بال باقی رہ گئے ہیں ان کو بھی فوری کاٹنا ضروری نہیں ہے، اگر چالیس دن سے بھی زیادہ ہوگئے ہوں تو  ان باقی بچے ہوئے کی بھی صفائی کرنا ضروری ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201439
تاریخ07-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں