بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا

سوال

نماز میں قراءت کے دوران ہاتھ ناف سے اوپر باندھنے چاہییں یا ناف سے نیچے؟ دلیل کے ساتھ جواب کا منتظر ہوں!

جواب

احناف رحمہم اللہ کے ہاں نماز کے دوران قیام کی حالت میں ہاتھ  ناف کے نیچے باندھنا ہی راجح ہے، مختلف روایات اور آثارِ صحابہ سے یہ ثابت ہے،  مثلاً امام ابوداود رحمہ اللہ نے حدیث روایت کی ہے:

حدثنا محمد بن محبوب حدثنا حفص بن غياث عن عبد الرحمن بن إسحاق عن زياد بن زيد عن أبي جحيفة أن عليًّا - رضي الله عنه - قال: السنة وضع الكف على الكف في الصلاة تحت السرة.

(سنن أبي داؤد: ۱/۴۹۵)

یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ ہتھیلی کو ہتھیلی پر رکھ کر ناف کے نیچے باندھا جائے، اور  ’’علمِ مصطلح الحدیث‘‘ کا طے شدہ اصول ہے کہ جب کوئی صحابی کسی عمل کو سنت کہے تو وہ حدیث مرفوع کےحکم میں ہوتی ہے، اس حدیث میں اگرچہ عبدالرحمن بن اسحاق ضعیف راوی ہیں، لیکن چوں کہ اس کی تائید صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عمل سے ہوتی ہے، اس لیے اس سے استدلال درست ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201427
تاریخ07-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں