بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کپڑے، جوتے، عطر، گھڑی، قیمتی پتھروں پر زکاۃ کا حکم

سوال

قیمتی ملبوسات، جوتوں، عطریات اور گھڑیوں وغیرہ پر زکاۃ کا کیا حکم ہے؟  نیز ہیرے،نیلم،فیروزہ اور دیگر بیش قیمت پتھروں پر زکاۃ کا کیا حکم ہے، جو کہ عموما انگوٹھی میں لگا کر پہنے جاتے ہیں؟

جواب

مذکورہ تمام اشیاء اگر تجارت کی غرض سے نہ ہوں تو ان پر زکاۃ لازم نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وأما اليواقيت واللآلئ والجواهر فلا زكاة فيها، وإن كانت حليًا إلا أن تكون للتجارة، كذا في الجوهرة". (180/1ط: رشیدیه) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201416
تاریخ07-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں