بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزہ کی حالت میں منہ میں تمباکو رکھنا

سوال

منہ میں تمباکو رکھنے سے کیا  روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب

منہ میں تمباکو رکھنے سے  اس کا اثر چوں کہ دماغ اور معدے تک پہنچتا ہے؛ لہذا روزہ کی حالت میں منہ میں رکھنے سے روزہ فاسد ہو جائے گا۔

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:

"(وَ) كُرِهَ (مَضْغُ عِلْكٍ) أَبْيَضَ مَمْضُوغٍ مُلْتَئِمٍ، وَإِلَّا فَيُفْطِرُ".

فتاوی شامی میں ہے:

"(قَوْلُهُ: وَكُرِهَ مَضْغُ عِلْكٍ) نَصَّ عَلَيْهِ مَعَ دُخُولِهِ فِي قَوْلِهِ: وَكُرِهَ ذَوْقُ شَيْءٍ وَمَضْغُهُ بِلَا عُذْرٍ؛ لِأَنَّ الْعُذْرَ فِيهِ لَايَتَّضِحُ، فَذَكَرَ مُطْلَقًا بِلَا عُذْرٍ اهْتِمَامًا رَمْلِيٌّ. قُلْت: وَلِأَنَّ الْعَادَةَ مَضْغُهُ خُصُوصًا لِلنِّسَاءِ؛ لِأَنَّهُ سِوَاكُهُنَّ كَمَا يَأْتِي فَكَانَ مَظِنَّةَ عَدَمِ الْكَرَاهَةِ فِي الصِّيَامِ لِتَوَهُّمِ أَنَّ ذَلِكَ عُذْرٌ (قَوْلُهُ: أَبْيَضَ إلَخْ) قَيَّدَهُ بِذَلِكَ؛ لِأَنَّ الْأَسْوَدَ وَغَيْرَ الْمَمْضُوغِ وَغَيْرَ الْمُلْتَئِمِ، يَصِلُ مِنْهُ شَيْءٌ إلَى الْجَوْفِ، وَأَطْلَقَ مُحَمَّدٌ الْمَسْأَلَةَ وَحَمَلَهَا الْكَمَالُ تَبَعًا لِلْمُتَأَخِّرِينَ عَلَى ذَلِكَ قَالَ لِلْقَطْعِ بِأَنَّهُ مُعَلَّلٌ بِعَدَمِ الْوُصُولِ، فَإِنْ كَانَ مِمَّا يَصِلُ عَادَةً حُكِمَ بِالْفَسَادِ؛ لِأَنَّهُ كَالْمُتَيَقِّنِ". ( كتاب الصوم، بَابُ مَا يُفْسِدُ الصَّوْمَ وَمَا لَا يُفْسِدُهُ، ٢ / ٤١٦ - ٤١٧، ط: دار الفكر) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201380
تاریخ06-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں