بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تازہ وضو ہو اور قضائے حاجت کی تو بھی وضو کرنا ہوگا/ اٹیجڈ باتھ روم میں وضو

سوال

1- تازہ وضو ہو اور دوبارہ حاجت کے لئے جائے تو دوبارہ وضو کرناہوگا؟

2- اٹیچڈ باتھ روم میں وضو ہوجاتا ہے؟

جواب

1-مذکورہ صورت میں دوبارہ حاجت کے لیے جاکر   پیشاب یا پاخانہ کرنے سے وضو ٹوٹ جائے گا، از سرِ نو وضو کرنا ہوگا۔

2- مروجہ  مشترکہ غسل خانہ اوربیت الخلا جہاں غسل اور قضائے حاجت کی جگہ کے درمیان کوئی حائل نہیں ہوتاہے، اس قسم کے غسل خانوں میں وضو کرنا تو درست ہے، تاہم ایسے باتھ روم میں زبان سے ذکر یا دعا پڑھنے کی اجازت نہیں ہے، لہٰذا وضو  سے پہلے، وضو کے دوران اور اس کے بعد کی دعائیں نہ پڑھی جائیں؛ کیوں کہ یہ بیت الخلا میں پڑھنا شمارہوگا، البتہ زبان سے پڑھنے کے بجائے دل میں پڑھ لے تو درست ہے۔ فتاوی شامی میں ہے :

"(قوله: إلا حال انكشاف الخ ) الظاهر أن المراد أنه يسمى قبل رفع ثيابه إن كان في غير المكان المعد لقضاء الحاجة، وإلا فقبل دخوله فلو نسي فيها سمي بقلبه ولا يحرك لسانه تعظيماً لاسم الله تعالى". (1/109)

  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201371
تاریخ06-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں