بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صبح صادق کے بعد غسل کرنا

سوال

کسی شخص پر غسل فرض ہو جائے اور وہ جان بوجھ کر وقت گزارتا رہے اور روزہ رکھ لے یہاں تک کہ نماز کا وقت داخل ہو جائے تو اب غسل کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں بغیر کسی عذر کے غسل میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے، تاہم اگر کسی نے صبح صادق سے پہلے غسل نہ کیا اور اسی حالت میں سحری کرلی تو اس کا روزہ درست ہوگا، اور اس صورت میں نماز سے قبل غسل کرلینا چاہیے، نماز قضا کرنا جائز نہیں، البتہ روزے میں غسل کے دوران کلی کرتے ہوئے غرغرہ نہ کرے، اور ناک میں پانی ڈالتے ہوئے ناک کی نرم ہڈی تک پانی نہ پہنچائے، ایسا کرنے کی صورت میں اگر پانی حلق میں چلا گیا تو روزہ فاسد ہوجائے گا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وَإِنْ تَمَضْمَضَ أَوْ اسْتَنْشَقَ فَدَخَلَ الْمَاءُ جَوْفَهُ إنْ كَانَ ذَاكِرًا لِصَوْمِهِ فَسَدَ صَوْمُهُ وَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ ذَاكِرًا لَايَفْسُدُ صَوْمُهُ، كَذَا فِي الْخُلَاصَةِ، وَعَلَيْهِ الِاعْتِمَادُ". ( كتاب الصوم، الْبَابُ الرَّابِعُ فِيمَا يُفْسِدُ، وَمَا لَا يُفْسِدُ، النَّوْعُ الْأَوَّلُ مَا يُوجِبُ الْقَضَاءَ دُونَ الْكَفَّارَةِ، ١ / ٢٠٢، ط: دار الفكر) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201370
تاریخ06-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں