بیوہ اور بھائی میں تقسیمِ ترکہ / بھائی کی موجودگی میں بھتیجوں کا میراث میں حصہ
سوال
اگر کسی شخص کا انتقال ہو جائے اور اس کی ایک بیوہ ہو اور اس کی اولاد نہ ہو ، صرف ایک بھائی زندہ ہو، باقی بھائیوں کا انتقال ہو گیا ہو۔ اب جب میراث تقسیم کرے گا تو دیگر بھائیوں کی اولاد کو بھی حصہ دے گا یا نہیں ؟
جواب
مذکورہ صورت میں میت کی میراث مرحوم کی بیوہ اور بھائی میں تقسیم ہوگی،بھائی کی موجودگی میں مرحوم بھائیوں کی اولاد (میت کے بھتیجوں )کو بطورِ میراث حصہ نہیں ملے گا۔
مرحوم کی میراث کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد ، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو اسے ادا کرنے کے بعد ،اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ میں سے نافذ کرنے کے بعد، باقی کل ترکہ کو 4 حصوں میں تقسیم کرکے مرحوم کی بیوہ کو ایک حصہ اور بھائی کو 3 حصے ملیں گے۔
یعنی 100 روپے میں سے 25 روپے مرحوم کی بیوہ کو اور 75 روپے مرحوم کے بھائی کو ملیں گے۔فقط و اللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

