بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گاڑی کی زکات میں کس قیمت کا اعتبار ہوگا؟

سوال

دو سال قبل گاڑی کی قیمت پانچ لاکھ تھی، اب اس کی زکاۃ پانچ لاکھ کے حساب سے ادا کروں یا موجودہ قیمت کے حساب سے?

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ گاڑی آپ کے استعمال کی ہے تو اس پر زکوٰۃ لازم نہیں ہے، اور اگر مذکورہ گاڑی فروخت کرنے کی نیت سے لی ہو تو اس کی قیمتِ فروخت کے مطابق زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔

''فتاوی شامی'' میں ہے:

"(وجاز دفع القیمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق)، وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا: يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعاً، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه، ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه، فتح". (2/286، باب زکاۃ الغنم، ط:سعید)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201334
تاریخ06-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں