بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا ایک تولہ سونے پر زکاۃ ہے؟

سوال

کیا ایک تولہ سونے پر زکاۃ ہوگی؟

جواب

اگر کسی شخص کی ملکیت میں صرف ایک تولہ سونا ہے اور اس کے علاوہ چاندی، یا نقد رقم یا مال تجارت موجود نہیں ہے، تو اس پر زکاۃ ادا کرنا لازم نہیں ہے، اس لیے کہ صرف سونا ملکیت میں ہونے کی صورت میں اس پر زکاۃ  لازم ہونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ سونا ہے، لیکن اگر سونے کے ساتھ ساتھ  نقدی،چاندی یا مالِ تجارت میں سے بھی کچھ ملکیت میں ہو تو ساڑھے سات تولہ کا اعتبار نہیں، بلکہ اگر ان مملوکہ اشیاء کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت تک پہنچ جائے تو زکات ادا کرنا لازم ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201320
تاریخ06-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں