بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بڑی عمر میں روزہ کا حکم

سوال

ضعیف العمر شخص کا روزے نہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص اتنا بوڑھا یا ایسا بیمار ہو کہ اس کے صحیح ہونے کی امید نہ ہو تو  یہ ہر روزہ کے بدلے پونے دو کلو  گندم یا اس کی قیمت کسی مستحقِ زکات  شخص کو دے دے، تاہم ایسا شخص جس نے وقتی بیماری کی وجہ سے روزہ ترک کیا ہو، اور زندگی میں دوبارہ صحت مند ہونے کی امید ہو، اس کے لیے روزے کا فدیہ ادا کرنا کافی نہیں، صحت مل جانے کے بعد روزے کی قضا کرنا لازم ہے۔ نیز اگر کوئی بڑی عمر کا ہے، لیکن روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہے تو اس پر روزہ رکھنا لازم ہے، صرف بڑی عمر کی وجہ سے روزہ رکھنا ساقط نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201293
تاریخ06-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں