بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پھوپھی کے گھر نہ جانا

سوال

میرا پھوپھی زاد بھائی  میرےساتھ  میرے بچپن میں بہت ناجائز حرکات کرتا تھا،  میرے  جوان ہونے کے بعد میرے ماں باپ نے میری شادی کی تو بچپن کی تمام باتیں میرے ذہن میں آگئیں، اب میں اپنی پھپھو کے گھر  دس سال سے نہیں جارہی ہوں، پھوپھی زاد سے قطع تعلق  ہوچکی ہوں۔ بچپن کا سب یاد آتا ہے،  ماں باپ ملنے پر اصرار کرتے ہیں، انہیں نہیں بتانا چاہتی۔ کیا یہ بھی قطع رحمی کے زمرے میں آئے گا؟ سب شش و پنج میں میں پڑے ہیں کہ میں کیوں نہیں ملتی۔ کیا ماں باپ کو بتا سکتی ہوں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں پھوپھی زاد بھائی آپ کا نا محرم ہے، اس سے پردہ کرنا شرعاً ضروری ہے، البتہ پھوپھی سے قطع تعلق رکھنا شرعاً درست نہیں، لہذا اگر پھوپھی کے گھر جانے کی صورت میں پھوپھی زاد بھائی سے سامنا نہ ہو، تو ایسی صورت میں آپ ان کے گھر جا سکتی ہیں۔

تاہم بچپن کے معاملات پر سے  اب پردہ  اٹھانا بہتر نہیں، لہذا حکمت و دانائی کے ساتھ  شرعی دائرہ کار میں رہتے ہوئے پھوپھی سے مل سکتی ہیں۔  نیز  اگر آپ پھوپھی سے ملتی، اور ان سے  حال احوال معلوم کرتی رہتی ہیں، صرف ان کے گھر نہیں جاتیں،  تو  ایسی صورت میں یہ قطع تعلق کے زمرے میں نہ ہوگا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201270
تاریخ05-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں