بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لاعلمی میں نابالغ کو زکاۃ دے دی

سوال

اگر نابالغ کو لا علمی کی وجہ سے زکاۃ دے دی تو کیا حکم ہے؟

جواب

اگر نابالغ بچہ سمجھ  بوجھ رکھتا ہو  اور اس کے والد مال دار نہ ہوں، بلکہ فقیر (مستحقِ زکات) ہوں تو  ایسے بچے کو  زکاۃ دینے سے زکاۃ ادا ہوجائے گی۔ لیکن اگر بچہ نابالغ ہو اور والد مال دار ہو اور بچے کا خرچہ بھی اٹھاتا ہو تو  ایسے بچے کو  زکاۃ دینا جائز نہیں ۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع - (4 / 32):
"وأما ولد الغني فإن كان صغيرًا لم يجز الدفع إليه وإن كان فقيرًا لا مال له؛ لأن الولد الصغير يعد غنيًّا بغنى أبيه وإن كان كبيرًا فقيرًا يجوز؛ لأنه لايعد غنيًّا بمال أبيه فكان كالأجنبي".

رد المحتار - (7 / 269):
"دفع الزكاة إلى صبيان أقاربه برسم عيد أو إلى مبشر أو مهدي الباكورة جاز إلا إذا نص على التعويض ...( قوله : إلى صبيان أقاربه ) أي العقلاء وإلا فلايصح إلا بالدفع إلى ولي الصغير". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201201
تاریخ05-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں