بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کا اعتکاف کی حالت میں دروازہ کھولنے جانا

سوال

 کیا عورت حالت اعتکاف میں اگر گھر میں کوئی نہ ہو تو کسی کے آنے پر گھر کا دروازہ کھول سکتی ہے؟

جواب

عورت اپنے گھر کی مسجد (جو جگہ نماز ودیگر عبادات کے لیے مختص ہو)میں اعتکاف کے لیے بیٹھی ہو تو عورت کے لیے گھر کی  یہ مسجد  بالکل اسی طرح ہے جس طرح مردوں کے لیے مسجد  کا  حکم  ہے۔اعتکاف کی حالت میں  عورت کا طبعی اور شرعی ضرورت کے بغیر اس جگہ سے  باہر نکلنا درست نہیں ہے.

لہذا گھر کا دروازہ کھولنا کسی طبعی یا شرعی ضرورت میں شامل نہیں اور اس کے لیے متبادل انتظام بھی ممکن ہے ، اس لیے عورت کا مسسنون اعتکاف کی حالت میں دروازہ کھولنے جانا درست نہیں ہے اس سے  مسنون اعتکا ف ٹوٹ جائے گا۔اس لیے بہتر یہ ہے کہ اعتکاف میں بیٹھنے سے پہلے ان کاموں کے لیے کوئی متبادل انتظام کرلیا جائے ،مثلاً آنے والے افراد چابی سے دروازہ کھول لیں یا عورت کے  لیے مخصوص اعتکاف کی جگہ میں ہی بٹن لگا ہو جس کے ذریعہ دروازہ کھل جاتا ہو تو اس کا انتظام کرلینا چاہیے۔ تاکہ پوری یک سوئی کے ساتھ یہ عبادت اپنی روح اور مقصد کے ساتھ ادا ہوجائے۔فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201198
تاریخ05-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں