بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں ذائقہ چیک کرنے کا حکم

سوال

روزہ دار عورت مجبور ی میں ذائقہ چیک کرے تو روزہ ٹوٹتا ہے کہ نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی مجبوری ہو تو روزہ کی حالت میں ذائقہ چیک کرنے کی اجازت ہے اور اگر کوئی مجبوری نہ ہو تو ذائقہ چیک کرنا مکروہ ہے، تاہم اگر روزہ دار روزہ کی حالت میں ذائقہ چیک کرے اور وہ چیز حلق سے نیچے نہ اترے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا اور اگر حلق سے نیچے اترجائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (2 / 416):
"(وكره) له (ذوق شيء و) كذا (مضغه بلا عذر) قيد فيهما قاله العيني ككون زوجها أو سيدها سيئ الخلق فذاقت. وفي كراهة الذوق عند الشراء قولان، ووفق في النهر بأنه إن وجد بدا، ولم يخف غبنا كره وإلا لا وهذا في الفرض لا النفل كذا قالوا وفيه كلام لحرمة الفطر فيه بلا عذر على المذهب فتبقى الكراهة". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201146
تاریخ04-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں