بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بھول کر سجدہ سہو کرنے کا حکم

سوال

اگر کسی نے بھول کر سجدہ سہو کیا تو اس کا کیا حکم ہے؟ یا یہ سوچا کی سجدہ سہو واجب ہوا حال آں کہ سجدہ واجب نہیں ہوا تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر کسی پر سجدۂ سہو واجب نہیں ہوا تو محض شک اور شبہ کی وجہ سے سجدہ سہو نہیں کرنا چاہیے، اور اگر غلطی سے سجدہ سہو کرلیا تو نماز ہوگئی، دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

خلاصۃالفتاوی (۱/۱۶۳، امجد اکیڈمی):

"إذا ظن الإمام أنه عليه سهواً فسجد للسهو وتابعه المسبوق في ذلك ثم علم أن الامام لم يكن عليه سهو فيه روايتان ... وقال الإمام أبو حفص الكبير: لايفسد، والصدر الشهيد أخذ به في واقعاته، وإن لم يعلم الإمام أن ليس عليه سهو لم يفسد صلاة المسبوق عندهم جميعاً". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201138
تاریخ04-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں