بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نامحرم کو چھونے کی وجہ سے روزے کا حکم

سوال

کیا روزے  کی حالت میں نامحرم کی شرم گاہ چھونے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اس کا کفارہ کیا ہے؟

جواب

نامحرم کی شرم گاہ  چھونا ناجائز اور حرام ہے، روزہ کی حالت میں اس کا وبال بڑھ جاتا ہے، تاہم اگر کوئی ایسا کرلے اور انزال نہ ہو تو اس سے اس کا روز نہیں ٹوٹے گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (6 / 367):
"(وما حل نظره) مما مر من ذكر أو أنثى (حل لمسه) إذا أمن الشهوة على نفسه وعليها «لأنه عليه الصلاة والسلام  كان يقبل رأس فاطمة» وقال عليه الصلاة والسلام: «من قبل رجل أمه فكأنما قبل عتبة الجنة» وإن لم يأمن ذلك أو شك، فلا يحل له النظر والمس كشف الحقائق لابن سلطان والمجتبى (إلا من أجنبية) فلا يحل مس وجهها وكفها وإن أمن الشهوة؛ لأنه أغلظ ولذا تثبت به حرمة المصاهرة وهذا في الشابة، أما العجوز التي لا تشتهى فلا بأس بمصافحتها ومس يدها إذا أمن". فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201126
تاریخ04-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں