نکاح کے وقت لڑکی کی عمر کم بتانا
سوال
مسجد میں نکاح کے وقت لڑکی والوں نے لڑکی کی عمر کم لکھائی، بعد میں نادرا رجسٹریشن کے وقت لڑکی کی عمر زیادہ پتا چلتی ہے (34-26)، چوں کہ نکاح کا اہتمام لڑکی والوں نے کیا تھا۔ برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں ایسے عمل کے بارے میں!
جواب
جھوٹ بولنا حرام اور ناجائز ہے، اور عمر غلط بتانا یا غلط لکھوانا بھی جھوٹ اور گناہ ہے، لہٰذا جس نے مذکورہ جھوٹ بولا ہے اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرے، اور آئندہ کاغذات میں درست عمر کا اندراج کرے، ورنہ سخت گناہ ہو گا۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

