بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سحری کے وقت بیدار کرنے کے لیے اذان دینا

سوال

 کیا رمضان میں سحری  تیار کرنے کے   لیے عورتوں کو اذان دے کر جگانا جائز ہے اور اگر جائز ہے تو دلیل کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اذان کی  مشروعیت نماز کے وقت کے اعلان کے  لیے ہوئی ہے،  یعنی اذان سے لوگوں کو یہ معلوم ہو سکے کہ نماز کا وقت داخل ہو چکا ہے، البتہ اس کے علاوہ بعض مواقع ایسے ہیں جن میں اذان مشروع ہے، مثلاً نو مولود کے کان میں اذان کہنا۔

 جہاں  تک سحری میں عورتوں کو جگانے کے  لیے اذان کہنے کا تعلق ہے تو کتبِ فقہ میں ایسی کوئی صراحت نہیں ملتی کہ اس موقع پر اذان دی جائے، اس  لیے اس سے احتراز بہتر ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

" مطلب في المواضع التي يندب لها الأذان في غير الصلاة

(قوله: لايسن لغيرها ) أي في الصلوات وإلا فيندب للمولود."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201041
تاریخ03-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں