بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تین شرکاء کے پلاٹ پر زکاۃ کا طریقہ

سوال

ہم دو بھائیوں اور والد صاحب نے مل کر رہائشی پلاٹ، منافع پر بیچنے کی نیت سے، قسطوں پر خریدا ہے، تاہم ابھی تک قبضہ نہیں لیا ہے۔ والد صاحب نے 50٪، ایک بھائی نے 30٪ اور دوسرے نے 20٪ حصہ کل قیمت کا ادا کیا ہے، جب کہ پلاٹ ایک بھائی کے نام پر ہے(لیکن ملکیت نہیں)۔ مارکٹ ریٹ کے حساب سے اس پر منافع بھی ہے۔ اس صورتِ حال میں زکاۃ کی ادائیگی کیسے کی جائے؟ کیا تینوں فریقین کو منافع اور اصل قیمت ملاکر، اپنے اپنے حصے پر زکاۃ دینی ہوگی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں آپ تینوں مذکورہ پلاٹ کے مالک ہوچکے ہیں۔ مذکورہ پلاٹ کی موجودہ قیمتِ فروخت میں سے اس سال کی واجب الادا  قسطوں کے بقدر قیمت کو منہا کرنے کے بعد جو رقم بچے گی، اس رقم میں تینوں پر اپنے حصے کے حساب سے زکاۃ لازم ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200950
تاریخ02-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں