بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پرائز بانڈ کے پیسوں سے عمرہ

سوال

پرائز بانڈ کے پیسوں سے عمرہ کرنا جائز ہے؟

جواب

پرائز بونڈ سے حاصل شدہ انعامی رقم سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، اور حرام رقم کو عبادات میں خرچ کرنا اور اس پر اجر و ثواب کی امید رکھنا جائز نہیں ہے۔  لہذا عمرہ کے لیے حلال رقم خرچ کی جائے ورنہ یہ عبادات قبول نہیں ہوں گی۔  تاہم اصل رقم جو لگائی تھی، اسے عمرے یا دیگر جائز مصارف میں استعمال کرسکتا ہے۔

فتاوی بینات میں ہے :

’’۔۔۔اس لیے پرائز بانڈز کی خرید و فروخت کرنا اور اس سے ملنے والا انعام حاصل کرنا از روئے شرع ناجائز اور حرام ہے، شیطانی عمل ہے، گندا معاملہ ہے، واجب الترک ہے کہ اس کے ترک میں انسانی فلاح و کامیابی ہے، اس کے خلاف کرنے میں شیطانیت ہے، اپنے کو گندا کرنا ہے، رب کریم کے غیظ و غضب کو دعوت دینا ہے، اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو ہدایت دے، دین کا فہم دے اور ہدایت کو قبول کرنے کی توفیق دے‘‘۔ (ج۴ / ص۲۲۷) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200938
تاریخ02-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں