بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایام بیض کے روزے

سوال

ایام بیض کے روزے سنت مؤکدہ ہیں یانہیں؟

جواب

ایام بیض کے روزے سنتِ مؤکدہ نہیں بلکہ مستحب ہیں۔ ان کا رکھنا فضیلت کا باعث ہے، اور نہ رکھنے میں گناہ نہیں ہے، اگر کسی شخص کا مستقل یہ روزے رکھنے کا معمول ہے تو یہ انتہائی سعادت کی بات ہے، البتہ اگر کبھی اس سے یہ روزے رہ جائیں تو قضا یا گناہ نہیں ہوگا۔ نیز قمری مہینے کے کسی بھی حصے (اول، درمیان، آخر یا متفرق) میں تین روزے رکھ لینے سے حدیث شریف کے مطابق یہ فضیلت حاصل ہوجاتی ہے کہ جس شخص کا معمول (علاوہ رمضان المبارک کے ) ہر مہینے  تین روزے  رکھنے کا ہو، گویا اس نے ساری زندگی روزے رکھے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 375):
"والمندوب كأيام البيض من كل شهر". فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200935
تاریخ02-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں