بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کا قرآن باہر لےجانا

سوال

مسجد میں وقف کردہ قرآن مجید پڑھنے کے لیے گھر پر یا کسی اور جگہ لے جا سکتے ہیں؟

جواب

جس مسجد کے لیے قرآنِ مجید وقف ہو، پڑھنے کے لیے اس مسجد  سے باہر نہیں لے جا سکتے۔

فتاوی محمودیہ میں ہے :

’’جو پارے یا کتب جس مسجد کے لیے وقف ہوں ان کو دوسری جگہ لے جانے کی اجازت نہیں‘‘۔ (ج۱۴ / ص۵۸۵)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4 / 365):
’’وفي الدرر: وقف مصحفًا على أهل مسجد للقراءة إن يحصون جاز، وإن وقف على المسجد جاز ويقرأ فيه، ولايكون محصورًا على هذا المسجد، وبه عرف حكم نقل كتب الأوقاف من محلها للانتفاع بها، والفقهاء بذلك مبتلون فإن وقفها على مستحقي وقفه لم يجز نقلها‘‘. فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200933
تاریخ02-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں