بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ بچے کو زکاۃ دینا

سوال

کیا نابالغ بچے کو زکات دی جا سکتی ہے؟ عورت عباسی خاندان کی ہے اور اس کا چھوٹا بچہ ہے، اور انہیں خاوند چھوڑ کر چلا گیا!

جواب

اگر نابالغ بچہ سید نہ ہو، مستحقِ زکاۃ ہو،  عقل مند اور سمجھ دار ہو، مال پر قبضہ اور ملکیت کو سمجھتا ہو تو اس کو زکاۃ دینا جائز ہے، اور اگر قبضے کو نہ سمجھتا ہو اور لین دین کے قابل نہ ہو تو ایسے بچہ کو زکاۃ دینے سے زکاۃ ادا نہیں ہوگی۔ تاہم اگر چھوٹا بچہ مستحقِ زکاۃ ہو اور بچے کا ولی (بھائی، چچا وغیرہ) اس کی طرف سے قبضہ کرے تو ادا ہو جائے گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 356):

"(قوله: إلى صبيان أقاربه) أي العقلاء وإلا فلايصح إلا بالدفع إلى ولي الصغير."

فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200915
تاریخ02-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں