بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک سے سودی قرضہ لینا

سوال

میں ایک بنک میں سونے کے زیورات دے کہ قرض حاصل کرنا چاہتا ہوں  جس میں بنک میرے زیورات کا حساب کر کے کل قیمت کا 60 فیصد مجھے رقم دے گا اور جب بھی میں وہ رقم واپس کروں گا تو مجھے میرے زیورات واپس مل جائیں  گے اور اس کے ساتھ  ساتھ  بنک میرے سے ہر دن کے حساب سے مجھے دی گئی رقم پر  پیسے چارج کرے گا. اور مجھے یہ پیسے ایک سے دو مہینے کے لیے ضرورت ہو گی جو  میں نے کاروباری مقصد کے لیے استعمال کرنے ہیں.  کیا میرا یہ پیسے بنک سے لینا جائز ہے یا میں یہ پیسے کیسی صورت میں کاروباری مقصد کے لیے استعمال کر سکتا ہوں؟

جواب

مذکورہ صورت سود کی ہے، اور سودی قرض لینا اور دینا دونوں حرام ہے؛  لہذا یہ معاملہ کرنا ناجائز ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 166):
"وفي الأشباه: كل قرض جرّ نفعًا حرام". فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200899
تاریخ02-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں