بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سحری کے وقت آنکھ نہ کھلے تو روزہ کا کیا حکم ہے؟

سوال

اگر سحری کے وقت آنکھ  نا کھلے اور بندہ صبح اٹھےتو کیا روزہ ہوسکتا ہے؟

جواب

روزہ رکھنے کے لیے سحری کرنا مستحب ہے، فرض یا واجب نہیں ہے، لہذا اگر کسی شخص کی سحری کے وقت آنکھ نہ کھلی ہو تو اگر رات ہی کو  وہ روزے کی نیت کرکے سویا تھا تو اس کا روزہ درست ہوگا، اور اگر رات کو روزے کی نیت نہیں تھی تب بھی نصف النہار شرعی( صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک  کل وقت کے نصف (آدھے) کو نصف النہار شرعی کہا جاتا ہے)  سے پہلے پہلے  روزے کی نیت کی جاسکتی ہے، بشرطیکہ صبح صادق کے بعد کچھ کھایا پیا نہ ہو۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200893
تاریخ02-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں