بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اجنبیہ کو بہن سمجھ کر بات کرنا

سوال

میرے دفتر  کی ایک لڑکی  مجھے بھائی کہتی ہے اور میں اس کو بہن کہتا ہوں۔ ہماری دفتر کے اوقات کے بعد بھی موبائل پر رات گئے تک بات چیت ہوتی ہے۔ کیا اس کو بہن سمجھ  کر اس سے بات کرنا جائز ہے؟  دوسرا اس سے بات کرتے ہوئے کبھی کبھار شہوت میں اس کے لیے دل میں برُا خیال بھی آ جاتا ہے,شرعی اعتبار سے کیا حکم ہے?

جواب

صورتِ  مسئولہ میں آپ کا مذکورہ خاتون سے بات کرنا ناجائز ہے،  نیز کسی اجنبیہ کو  بہن کہہ کر اس سے بات کرنا بھی ناجائز  اور شیطانی دھوکا ہے؛ لہٰذا اس سے بات  چیت اور رابطہ فوراً منقطع کردیجیے۔ دفتر میں شدید ضرورت کے تحت بات کرنی ہو تو  اس کے ساتھ تنہائی میں بات کرنے کے بجائے دیگر لوگوں کے سامنے صرف ضرورت کی ہی بات کیجیے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200882
تاریخ02-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں