بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چار رکعات تراویح پڑھادیں

سوال

ایک بندہ نے تراویح کی جماعت کروائی اور دوسری رکعت میں  التحیات کے بعد کھڑا ہوگیا اور مزید دو رکعت مکمل کیں اور سجدہ سہو بھی نہیں کیا، اب سوال یہ ہے کہ تراویح کی دو رکعت کی قضا کریں گے یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی شخص تراویح  کی نماز میں دوسری رکعت کے بعد قعدے میں بیٹھا اور التحیات پڑھ کر یا  تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد  تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوا ہے اور پھر مزید دورکعتیں ملا کر چار رکعت پڑھ کر سلام پھیرا ہے تو اس صورت میں یہ چاروں رکعتیں صحیح ہوں گی اور سب تراویح شمار کی جائیں گی،اور سجدہ سہو کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔(تراویح کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا،ص:161)

البتہ اگر دوسری رکعت کے بعد قعدہ کرنے کے بجائے بھول کر سجدے سے سیدھا کھڑاہوگیا تو  جب تک تیسری رکعت کا سجدہ نہ کیاہوبیٹھ جائے  اورآخر میں سجدہ سہوکرکے نماز پوری کرلے اور اگر سجدہ سہو نہیں کیا تو  نماز لوٹانی ہوگی۔اور اگر دوسری رکعت کاقعدہ نہیں کیا اور کھڑے  ہو کر تیسری رکعت بھی پڑھ  لی اور تیسری رکعت کا سجدہ بھی کرلیا تو چوتھی رکعت ملاکر سجدہ سہو کرکے سلام پھیرے ، اس صورت میں آخری دورکعت درست ہوں  گی اور پہلی دورکعت قعدہ نہ کرنے کی وجہ سے فاسد ہوں گی، اور پہلی دورکعت میں جو قرآن پڑھاگیااس کا دوبارہ پڑھناضروری ہوگا۔فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200873
تاریخ02-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں