بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مباشرت کے بعد غسل سے قبل سحری اور نماز

سوال

رمضان میں مباشرت کے بعد اگر غسل کا مناسب وقت نہ مل سکے تو سحری اور نماز کی ادائیگی وضو کرکے کرسکتے ہیں اور غسل بعد میں کر لے تو کوئی حرج تو نہیں?

جواب

واضح رہے کہ مباشرت کرنے سے انسان حدثِ اکبر کے ساتھ ناپاک ہو جاتا ہے جس کو دور کرنے کے لیے غسل کرنا ہی ضروری ہے، غسل کیے بغیر نماز  ہوتی ہی نہیں ہے، وضو کرنے سے حدثِ اصغر دور ہوتا ہے، نہ کہ حدثِ اکبر، اس لیے غسل کیے بغیر سحری تو  کی جا سکتی ہے، نماز نہیں پڑھی جا سکتی۔

الفتاوى الهندية (1/ 58):
"الباب الثالث في شروط الصلاة
وهي عندنا سبعة: الطهارة من الأحداث، والطهارة من الأنجاس، وستر العورة واستقبال القبلة والوقت والنية". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200854
تاریخ01-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں