بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزہ میں منہ بھر کر قے ہوجانے کے بعد روزہ ٹوٹ جانے کے گمان سے کھجور کھالی تو کیا حکم ہے؟

سوال

روزہ کے دوران منہ بھرکر دو دفعہ قے  ہوگئی،  یہ سمجھتےہوئےکہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، کھجورکھالی۔  اس کےبعدپتا چلا کہ بلا قصدقے سے روزہ نہیں ٹوٹتاہے، اس کےبعدکچھ نہیں کھایا، اس کے بارے شریعت کاحکم ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر روزہ دار نے روزہ میں قے ہوجانے کے بعد یہ سمجھ کہ روزہ ٹوٹ گیا ہے ، کچھ کھا پی لیا تو اس سے اس کا روزہ فاسد ہوجائے گا، صرف اس ایک روزے کی قضا لازم ہوگی،  کفارہ لازم نہیں ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 401):
"(أو أكل) أو جامع (ناسيًا) أو احتلم أو أنزل بنظر أو ذرعه القيء (فظن أنه أفطر فأكل عمدًا) للشبهة". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200852
تاریخ01-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں