بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو سالوں کی زکاۃ ایک ساتھ

سوال

اگر پچھلے سال زکاۃ واجب ہوگئی تھی اور نہیں دی تو اگلے سال دو سالوں کی زکاۃ کس طرح دے؟

جواب

 نقدی، سونا چاندی، مالِ تجارت وغیرہ کی قیمت ملا کر جو مجموعی رقم بنے اس کا چالیسواں حصہ (ڈھائی فیصد )  ایک سال کی زکاۃ میں ادا کریں، اسی طرح دوسرے  سال کا حساب لگا لیں، البتہ دوسرے سال  کی زکاۃ کا حساب لگاتے ہوئے کل مالیت میں سے پہلے سال  واجب ہونے والی زکاۃ کی  رقم منہا کر کے چالیسواں حصہ ( ڈھائی فیصد) نکالیں، کیوں کہ یہ  ذمہ میں  واجب الادا  قرضہ ہے۔

مثلاً: ایک لاکھ روپے کی زکاۃ نکالنی ہے تو پہلے سال کی زکاۃ 2500 روپے بنے گی، اسے منہا کرکے دوسرے سال کی زکاۃ 97500 روپے میں سے ادا کی جائے گی، یعنی دوسرے سال کی زکاۃ  2437.5 روپے ہوگی، ایک لاکھ روپے میں دونوں سالوں کی زکاۃ 4937.5 روپے ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200778
تاریخ30-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں