بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صدقے کی رقم بھائی کو دینا

سوال

کیا صدقے کی رقم بھائی کو مکان کی مرمت یا تعمیر میں مدد کے طور پر دی جا سکتی ہےجب  کہ وہ مدد کا مستحق بھی ہے؟

جواب

صدقے سے مراد اگر نفلی صدقہ ہے تو بہرصورت بھائی کو یہ رقم  دی جاسکتی ہے  خواہ وہ مستحقِ زکات ہو یا مال دار ہو، اور اگر بھائی مستحقِ زکات ہے تو اسے زکات یاواجب صدقات دینا بھی درست ہوگا، بلکہ اورلوگوں کو دینے کی بہ نسبت  بھائی کو دینا زیادہ ثواب کا باعث ہے، اس میں صلہ رحمی کا بھی اجر ہے اور صدقے کا بھی۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200768
تاریخ30-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں