بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غلط فہمی کی وجہ سے سحری کا وقت ختم ہوجانے کے بعد پانی پی لینے کا حکم

سوال

ایک بندہ سحری میں دیر سے جاگا اور اس نے پانی پی لیا،  بعد میں اس نے وقت دیکھا تو  10 ، 15 منٹ ہوگئے تھے سحری ختم ہوئے۔ تو کیا اس صورت میں روزہ ہوگا؟  اگر نہیں تو پھر قضا ہوگی یا کفارہ؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں جس شخص نے غلط فہمی کی وجہ سے سحری کا وقت ختم ہوجانے کے بعد پانی پی لیا تھا اس کا وہ روزہ نہیں ہوا، اس کے ذمہ اس روزہ کی صرف قضا لازم ہے، کفارہ لازم نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200765
تاریخ30-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں