بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابینا امام / حافظہ کا تراویح پڑھانا

سوال

1- اپنے حفظِ  قرآن کو قائم رکھنے کے لیے نابینا شخص تراویح کی نماز میں امامت کرسکتا ہے؟

2- کیا حافظہ تراویح میں امامت کر سکتی ہے؟

جواب

1- اگر نابینا امام جسم اور کپڑوں کی اچھی طرح طہارت کا اہتمام کرتا ہو، تو اس کی امامت  بلاکراہت درست ہے اور اس کے پیچھے تراویح کی نماز پڑھی جاسکتی ہے۔

2- فرض نماز ہو یا نفل، عورت کا عورتوں کے لیے امام بننا مکروہِ تحریمی ہے، خواتین کے لیے یہی حکم ہے کہ وہ تنہا اپنی نماز ادا کریں، تراویح کی جماعت نہ کریں۔

"فعلم أن جماعتهن وحدهن مکروهة". (إعلاء السنن ۴؍۲۲۶)

"عن علي بن أبي طالب رضي اللّٰه عنه أنه قال: لا تؤم المرأة . قلت: رجاله کلهم ثقات". (إعلاء السنن ۴؍۲۲۷ دار الکتب العلمیة بیروت) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200750
تاریخ30-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں