بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہسپتال کا مالک مریضوں کو اپنی زکوۃ کی مد سے سبسڈی دے سکتا ہے یا نہیں؟

سوال

 میرے بھائی کا ذاتی ہسپتال ہے، حال ہی میں سرجن ڈاکٹر نے اس ہسپتال میں شمولیت اختیار کی ہے، وہ ڈاکٹر ٹرسٹ ہسپتال سے یہاں آیا ہے، اس نے سرجری کے مریضوں کا ٹرسٹ والا پیکج رکھا ہے، جس کی وجہ سے موجودہ ہسپتال کو کافی نقصان کا اندیشہ ہے، کیا اس صورت میں ہسپتال کا مالک سرجری کے مریضوں کو اپنی زکاۃ کی مد سے سبسڈی دے سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں ہسپتال کا مالک سرجری کے مریضوں کو اپنی زکات کی مد سے سبسڈی  نہیں  دے سکتا؛ کیوں کہ زکات کی ادائیگی درست ہونے کی من جملہ شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ  زکات دینے والا زکات سے ہر قسم کی منفعت ختم کرکے خالص اللہ کی رضا کے لیے زکات ادا کرے، جب کہ مذکورہ صورت میں زکات کا فائدہ خود زکات دینے والے/ ہسپتال کے مالک کو ہوگا۔

الفتاوى الهندية (1/ 170):

"أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى."

(كتاب الزكاة،الباب الأول في تفسيرها وصفتها وشرائطها،ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200737
تاریخ30-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں