بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدت کے دوران عورت کا ملازمت کے لیے گھر سے نکلنا

سوال

عورت کا عدت کے دوران گھر سے نکلنا کیسا ہے؟ اگر ایک عورت سرکاری ملازمہ ہو تو کیا وہ عدت کے دوران اپنی ملازمت کے لیے جا سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

عدت کے دوران عورت کو جانی یا مالی نقصان کے اندیشے کے بغیر گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے؛ لہذا اگر معتدہ (عدت گزارنے والی عورت) اپنی ملازمت سے رخصت لے کر عدت کے ایام گھر پر گزارسکتی ہے تو عدت میں ملازمت کے لیے جانا جائز نہیں ہے، اور اگر خرچ کاکوئی انتظام نہ ہو، صرف ملازمت ہی کی صورت میں خرچ چل سکتاہے اور متعلقہ محکمہ درخواست دینے کے باوجود رخصت منظور نہیں کرتا تو اس صورت میں دن کے وقت میں بقدرِ ضرورت جانے کی اجازت ہوگی اور رات سے پہلے پہلے واپس اپنے گھر پر پہنچناضروری ہوگا۔

"البحرالرائق " میں ہے:

'' (قوله: ومعتدة الموت تخرج يوماً وبعض الليل ) لتكتسب لأجل قيام المعيشة ؛ لأنه لا نفقة لها حتى لو كان عندهاكفايتها صارتكالمطلقة فلا يحل لها أن تخرج لزيارة ولا لغيرها ليلاً ولا نهاراً .والحاصل: أن مدار الحل كون خروجها بسبب قيام شغل المعيشة فيتقدر بقدره فمتى انقضت حاجتها لا يحل لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها كذا في فتح القدير''۔(4/166،دارالمعرفہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200710
تاریخ30-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں