بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گھر پر علم لگانا

سوال

علم لگانا گھر پر کیسا ہے، اس کی کیا حقیقت ہے؟

جواب

گھر پر علم لگانے سے مراد اگر اہلِ باطل کے طرز پر مخصوص علم لگانا ہے، تو  ملحوظ رہے کہ شریعت میں اس کی کوئی اصل  نہیں ،نیز اس میں اہلِ  باطل کی مشابہت  ہے؛ اس سے اجتناب لازم ہے۔ اور اگر اس پر کوئی شرکیہ جملہ لکھا ہو تو  اور  بھی  برا ہے۔ حدیثِ  مبارک  میں آتا ہے: جو آدمی جس  قوم کی مشابہت اختیار کرےگا آخرت میں ان ہی کے ساتھ حشر ہوگا؛ لہذا اپنے گھر پر یہ علم لگانے سےہر حال میں  بچنا لازم ہےاور  اگر لگا یا ہوا ہو تو فورًا اس کو ہٹانا ضروری ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200647
تاریخ29-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں