بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ناپاک کمبل اوڑھ کر تلاوت کرنا

سوال

 ایک کمبل ہے،  جس میں سوتا ہوں،  کئی بار احتلام بھی ہوا تو کیا ایسے کمبل کو اوڑھ کر میں تلاوتِ قرآنِ  پاک کرسکتا ہوں؟

جواب

قرآنِ  کریم کی عظمت اورجلال کاتقاضا  یہی ہے کہ پورے اداب واحترام کے ساتھ  اس کی تلاوت کی جائے، فقہائے کرام نے نجاست کے قریب تلاوت کو مکروہ قراردیاہے، اس لیے نجس کمبل اوڑھ  کر  قرآنِ کریم کی  تلاوت نہیں کرنی چاہیے۔ 

فتاویٰ شامی میں ہے:

"الحاصل أن الموت إن كان حدثًا فلا كراهة في القراءة عنده، وإن كان نجسًا كرهت، وعلى الأول يحمل ما في النتف وعلى الثاني ما في الزيلعي وغيره.

وذكر أن محل الكراهة إذا كان قريبًا منه، أما إذا بعد عنه بالقراءة فلا كراهة". (فتاویٰ شامی، باب صلاة الجنازة)

الفتاوی الهندیة، کتاب الکراهیة، الباب الرابع في الصلاة والتسبیح و قراءة القرآن و الذکر و الدعاء ... الخ، (5/316) ط: رشیدیة:

’’رجل أراد أن يقرأ القرآن فينبغي أن يكون على أحسن أحواله يلبس صالح ثيابه ويتعمم ويستقبل القبلة؛ لأن تعظيم القرآن والفقه واجب، كذا في فتاوى قاضي خان ... یکره أن یقرأ القرآن في الحمام؛ لأنه موضع النجاسات، و لایقرأ في بیت الخلاء، کذا في فتاوی قاضي خان‘‘. فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200599
تاریخ29-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں