بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو جگہ تراویح پڑھانا

سوال

کیا ایک امام بیک وقت دو جگہ تراویح پڑھا سکتا ہے؟

جواب

ایک ہی آدمی کے لیے ایک جگہ مکمل تراویح پڑھانے کے بعد دوسری جگہ تراویح پڑھانا جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ اس صورت میں امام ’’تراویح‘‘  پڑھنے والا نہیں، بلکہ ’’نفل‘‘  پڑھنے والا ہوگا اور نفل پڑھنے والے کے پیچھے تراویح کی نماز جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص تراویح کی کچھ رکعات ایک جگہ پڑھائے اور بقیہ رکعات دوسری جگہ پڑھائے تو اس میں حرج نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 590):
"فعلى هذا إذا صلى التراويح مقتديًا بمن يصلي المكتوبة أو بمن يصلي نافلةً غير التراويح اختلفوا فيه، والصحيح أنه لايجوز اهـ ومثله في الخلاصة والظهيرية". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200555
تاریخ28-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں