بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان میں بیوی سے جماع کا حکم

سوال

رمضان میں بیوی سے جماع کر نے کا کیا حکم ہے؟

جواب

رمضان المبارک میں طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک (یعنی روزے کی حالت میں)  بیوی کے ساتھ  ہم بستری کرنا جائز نہیں ہے، اس کے علاوہ رات کو بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

اگر رمضان میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے ہم بستری کی تو ایسی صورت میں روزہ فاسد ہوجائے گا، سچے دل سے توبہ و استغفار لازم ہونے کے ساتھ ساتھ قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے، یعنی ایک روزہ بطورِ قضا رکھنے کے ساتھ ایک روزے کے کفارے میں  ساٹھ روزے مسلسل رکھنے واجب ہوں گے۔ نیز روزہ فاسد ہونے کے بعد رمضان کے احترام کی وجہ سے دن کا باقی وقت روزہ داروں کی طرح بھوکا پیاسا رہنا ہوگا۔

اور اگر دائمی مرض یا زیادہ بڑھاپے وغیرہ کسی شرعی عذر کی بنا پر واقعۃً کفارے کے روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو  دو وقت کھانا کھلانا، یا ساٹھ مسکینوں کو صدقۃ الفطر ادا کرنا ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200543
تاریخ28-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں