بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مستحقِّ زکوۃ کو آدھا پلاٹ بیچنا اور آدھا زکوۃ میں دینا

سوال

ایک شخص کے پاس تجارتی پلاٹ ہیں، ان پر زکاۃ فرض ہے، اب یہ شخص چاہتا ہے کہ پلاٹ مستحقِ زکاۃ شخص پر فروخت کرے اور اس سے آدھی قیمت لے لے اور آدھی قیمت زکاۃ کی مد میں سے نہ لے تو  کیا اس طریقے پر زکاۃ ادا ہوگی یا نہیں؟ 

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں  کسی مستحقِ زکاۃ کو آدھا پلاٹ بیچ کر اس کے  پیسے لینا اور آدھا  پلاٹ زکاۃ  میں دیدینا جائز  ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2 / 42):

"و قال محمد: المعتبر ما هو أنفع للفقراء فإن كان اعتبار القدر أنفع فالمعتبر هو القدر كما قال أبو حنيفة و أبو يوسف و إن كان اعتبار القيمة أنفع فالمعتبر هو القيمة، كما قال زفر."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200538
تاریخ28-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں