بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سر یا داڑھی کے بالوں میں سیاہ خضاب لگے ہونے کی حالت میں کیے جانے والے غسل اور وضو کا حکم

سوال

اگر اتفاقاً  کوئی سیاہ خضاب لگائے تو جن بالوں پر خضاب لگ جائے تو غسل میں ان بالوں کا غسل ہوجاتا ہے؟ یا خضاب والی داڑھی کے ساتھ وضو ہوجاتا ہے؟

جواب

مجاہد کے علاوہ عام افراد کے لیے سر اور داڑھی کے بالوں میں خالص سیاہ خضاب لگانا ناجائز اور گناہ کی بات ہے، تاہم اگر بالوں پر سیاہ خضاب لگا ہوا ہو تو وہ  چوں کہ عام طور سےغسل اور وضو میں بالوں تک پانی کے پہنچنے سے مانع نہیں ہوتا ہے؛ اس لیے سیاہ خضاب لگے ہونے کی حالت میں کیا جانے والا غسل اور وضو شرعاً درست ہوگا، البتہ اگر کوئی خضاب (چاہے سیاہ ہو یا غیر سیاہ) ایسا ہو کہ جس کا جرم (جسم) ہونے کی وجہ سے وہ بالوں پر لگنے کے بعد بالوں  تک  پانی پہنچنے سے مانع ہو تو پھر جب تک وہ خضاب بالوں پر لگا ہوا ہو اس وقت تک غسل اور وضو درست نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200536
تاریخ28-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں